اکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے کی جانے والی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈکٹیٹر کی گود میں پلنے والے ہمیں جمہوریت کا درس دیتے ہیں۔

لاہور میں طاہر القادری کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے نام لیے بغیر حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ’’یہ لوگ ڈکٹیٹر سے زیادہ خطرناک ہیں، یہ سیاست دان نہیں مافیا ہیں، اگر یہ مافیا نہ ہوتا تو ایک ماہ میں انصاف مل جاتا‘‘۔

چیئرمین تحریک انصاف کا مزید کہنا تھا کہ ’’سارے ادارے ان کے کنٹرول میں ہیں، انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ کو دبانے کی کوشش کی لیکن رپورٹ سامنے آگئی، شہبازشریف اور رانا ثناء اللہ انصاف میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں‘‘۔

عمران خان نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے اب طاہرالقادری جو فیصلہ کریں گے ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ’’نوازشریف مجھے لاڈلہ کہتے ہیں، لاڈلہ وہ ہے جسے جنرل ضیاء نے چوسنی دے کر پالا، ان کے لیے آئی جے آئی بنوائی اور ان کی پوری مدد کی’’۔

عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’90ء میں مہران بینک کا پیسہ دلوایا پھر 25 سال تک لاڈلے کا کیس نہیں سنا گیا، 2013 کے الیکشن میں لاڈلے کی کس بریگیڈیئر نے مدد کی، ساری زندگی لاڈلہ ایک ہی رہا ہے، اب مسئلہ یہ ہےکہ لاڈلہ پاناما میں پھنس گیا تو اسٹیبلشمنٹ اس کی مدد نہیں کررہی‘۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ یہ شریف خاندان کی سیاسی زندگی کی آخری سانس ہے، ڈراموں کا وقت ختم ہوگیا، ہم ان کی تحریک کا انتظار کررہے ہیں، لکھ کر دیتا ہوں کہ ان کی کبھی تحریک چلانے کی جرأت نہیں ہوگی، چیلنج کرتا ہوں یہ لوگ جو مرضی کرلیں اب نہیں بچیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *